ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / اردگان کی صدارتی ریفرینڈم میں تاریخی کامیابی؛ 16 اپریل ترک قوم اور جمہوریت کی فتح کا دن ہے

اردگان کی صدارتی ریفرینڈم میں تاریخی کامیابی؛ 16 اپریل ترک قوم اور جمہوریت کی فتح کا دن ہے

Mon, 17 Apr 2017 18:28:54    S.O. News Service

استنبول،17اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کل اتوار کے روز ملک میں صدارتی طرز حکومت کے حق میں ہونے والے ریفرینڈم میں اپنی تاریخ ساز کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترک عوام کی بھاری اکثریت نے ملک میں صدارتی نظام کی حمایت میں ووٹ ڈالے ہیں۔قبل ازیں رات گئے ترک حکام کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ صدر رجب طیب اردوان کو وسیع اختیارات دینے پر منعقدہ ریفرینڈم کی گنتی مکمل ہوگئی ہے، جس کے بعد ترکی کی حکمراں جماعت نے جیت کا دعویٰ کیا ہے۔اہل کاروں نے فوری طور پر ریفرینڈم جیتنے والے کے نام کا اعلان نہیں کیا، جنھیں جمہوریہ کی 84 سالہ تاریخ میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔”ہاں“ میں ملنے والے ووٹوں کی تعداد 51.3 فی صد تھی، جب کہ 98 فی صد بیلٹ پیپروں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے۔

تاہم، اردوان کے حامیوں نے خوشی مناتے ہوئے دارلحکومت میں آتش بازی کی اور وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے اپنے آبائی شہر، اناطولیہ میں حامیوں کو بتایا کہ ''آج سے ترکی نیا ملک بن چکا ہے۔ نئی ترکی میں استحکام ہوگا، اعتماد ہوگا۔استنبول میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردگان نے کہا کہ موجودہ صدارتی ریفرینڈم کوئی معمولی بات نہیں۔ اس ریفرنڈم نے ترک تاریخ کے 200 سال سے چلے آرہے ایک تنازع کو ا?ج حل کردیا ہے۔ انہوں نے 16 اپریل کو ترک قوم اور اپنی فتح ونصرت کا دن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ا?ج کا دن جمہوریت کی فتح کا دن ہے۔ یہ کامیابی صدر انتظامیہ اور پارلیمان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کو توقع ہے کہ تمام دوست اور حلیف ممالک صدارتی ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرتے ہوئے انقرہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔

خیال رہے کہ موجودہ ریفرینڈم کے نتیجے میں آئین میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد صدرجو اختیارات حاصل ہوں گے ان کا عملی نفاذ سنہ 2019ء کے انتخابات کے بعد ہوگا۔آئینی تبدیلی سے اب صدر کی سرکاری طور پر غیر جانبدار حیثیت بھی ختم ہوگئی ہے، اْنھیں یہ اجازت ہوگی کہ وہ سیاسی جماعت کی قیادت کریں۔ صدر کے پاس پارلیمان کو تحلیل کرنے اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا اختیار ہوگا، جب کہ اْن کے پاس اعلیٰ عدالت اور آئینی کورٹ کے جج مقرر کرنے بھی اختیار ہوگا۔


Share: